بھٹکل:14/اپریل(ایس اؤنیوز)تعلقہ کے بیلکے گرام پنچایت حدود کے گورٹے علاقہ کے مہاستی مندر کے قریب پینےکے پانی کے لئے بورویل کھودنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے منظوری دئیے جانے کے بعد جمعرات کی شب کو جب بورویل کھودنے کا کام شروع ہوا تو اچانک فوریسٹ آفسران موقع پر پہنچ کر کام کو روک دیا، جس پر مقامی عوا م برہم ہوگئے۔ اس موقع پر بتایا گیا ہے کہ بیلکے پنچایت صدر اور دیگر ذمہ داران نے فوریسٹ آفسران کو بتایا کہ اس بورویل کی تعمیر کے لئے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے منظوری دی جاچکی ہے، مگر مبینہ طور پر فوریسٹ آفسر نندیش نے اُن کی بات سنی آن سنی کرتے ہوئے کام کو روک دیا۔ اس موقع پر عوام نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے فوریسٹ اہلکاروں کو آڑے ہاتھ لیا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاس پڑوس کے لوگ بھی بھاری تعداد میں جمع ہوگئی اور رات قریب گیارہ بجے یہاں حالات کشیدہ ہوگئے۔
واقعے کی جانکاری ملتے ہی فوریسٹ اہلکاروں کی بھی بھاری ٹیم موقع پر پہنچ گئی، پولس بھی جائے واردات پر پہنچنے کے بعد معاملہ اتنا سنگین رُخ اختیار کرگیا کہ صرف ہاتھ اُٹھنے کی دیری تھی، اور چنگاری بھڑک اُٹھتی، مگر ایسے موقع پر بھٹکل تحصیلدار وی این باڈکر جائے واردات پر پہنچ گئے اور عوام کی باتوں کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے کاغذات کی جانچ کی اور اُسی وقت بیلکے پنچایت کے ذمہ داران کو کام آگے بڑھانے کی ہدایت جاری کردی۔
تحصیلدار نے بتایا کہ یہاں ڈپٹی کمشنر کا اجازت نامہ حاصل کرکے کام شروع کیا گیا تھا، ہمنے کاغذات کی جانچ کی جس کے بعد ہم نے اجازت دے دی کہ وہ کام کو آگے بڑھائے۔
بتایا گیا ہے کہ فوریسٹ عملہ نے قریب تین گھنٹوں تک کام کو روکے رکھا تھا، مگر تحصیلدار کی آمد کے بعد دوبارہ کام شروع کیا گیا۔ عوام نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فوریسٹ آفسران باقاعدہ غنڈہ گردی پر اُتر آئے تھے اور ڈی سی کے حکمنامہ کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی ہی بات پر آڑ گئے تھے کہ یہاں بورویل کی کھدائی کرنے نہیں دیں گے۔
واقعہ کیا ہے: بیلکے گرام پنچایت حدود کے شری مہاستی مندر کے قریب بورویل کھودنے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے منظوری دی تھی، اسی کے مطابق بورویل کاکام شروع ہوا، رات 10 بجے کے قریب جائے وقوع پر پہنچے فاریسٹ افسران نے اعتراض جتایا اور کہا کہ یہ جگہ فاریسٹ محکمہ کی ہے یہاں بورویل کی کھدائی ہونے نہیں دیں گے ، یہ کہہ کر کام روک دیا۔ کام رکنے پر دیہی عوام جمع ہو گئی اور بتایا کہ یہ جگہ مندر کی ہے اور عوامی استعمال کے لئے آب پاشی منصوبے کے تحت یہاں بورویل کی کھدائی کی جارہی ہے، عوام کے مطابق علاقہ میں قریب 200سے زائد گھر ہیں، پینےکے پانی کا مسئلہ سنگین ہوتاجارہاہے، اور عارضی حل کے لئے یہاں بورویل نکالا جارہاہے ، عوام اس بات پر اڑ گئے کہ کسی بھی حال میں ہم یہاں کام کو روکنے نہیں دیں گے۔پنچایت صدر رمیش نائک نے اس موقع پر فوریسٹ آفسرکو ضلعی ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری حکمنامہ کی نقل بھی دکھائی اور بتایا کہ بیلکے میں مختلف پانی کے منصوبوں کے لئے حکومت کی طرف سے پچاس لاکھ روپیہ منظور کیا گیا ہے ۔اس دوران پاس پڑوس کی کثیر تعداد بھی جمع ہوگئی، عوام میں سے چند ایک نے طیش میں آکر فاریسٹ افسران سے مخاطب ہوکر کہاکہ اتی کرم جگہوں پر بڑے بڑے گھر تعمیر ہورہے ہیں آپ انہیں نکال باہر کرنےنہیں آتے ، عوامی استفادے کی خاطر کام کیا جارہاہے تو آپ کو اپنی افسری یاد آجاتی ہے، یہ عوام کو پینے کا پانی سپلائی کرنے کے لئے کیا جارہاکام ہے ، فاریسٹ افسران کام میں مداخلت کرتے ہوئے روکنا صحیح نہیں ہے اس موقع پر فوریسٹ افسران بھی مشتعل ہوکر عوام سے بھڑ گئے جس سے تھوڑی دیرکے لئے ماحول کشیدہ ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ کے حکم کو ہی ردی کا کاغذ بنائے فاریسٹ آفیسران عوام کی باتیں کب سنتے ، انہوں نے دھونس جماتے ہوئے کام روکنے کی تاکید کی۔
بھٹکل تعلقہ بھر میں پینے کے پانی کو لے کر کئی مسائل کا سامنا ہے، تعلقہ انتظامیہ ممکنہ اور بساط بھر ان کو حل کرنےکی کوشش کررہی ہے، گذشتہ دوروز پہلے ایسا ہی ایک مسئلہ حنیف آباد میں پیش آیاتو تحصیلدار باڈکر فوراً وہاں پہنچ کر عوام کی شکایات سماعت کرکے مسئلہ کو حل کرنےکا تیقن دیا تھا۔ خشک سالی سے گزررہے حالات میں بھی سرکاری محکمہ جات کے افسران کا تکبرانہ رویہ عوامی مسائل سے عدم دلچسپی کی طرف واضح اشارہ کرنے کی بات عوام سے سنی گئی ۔
بیلکے گرام پنچایت صدر رمیش نائک نے اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ عوامی استعمال کے لئے ضلعی انتظامیہ نے ٹاسک پوسک منصوبے کے تحت بورویل کھدائی کو منظوری دی ہے، فاریسٹ افسران کی طرف سے روک لگانا صحیح نہیں ہے، گورٹے علاقے میں عوام پانی کے لئے ترساں ہیں، اس کے لئے ہم ہر طرح کی جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے فوریسٹ آفسران کا ڈی سی حکم کو کوئی قیمت نہ دئیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ۔
اس تعلق سے وضاحت پیش کرتے ہوئے اے سی ایف نندیش ریڈی نے بتایا کہ فاریسٹ زمین پر جو بھی کام کیا جاتاہے اس کے لئے محکمہ کی طرف سےمنظوری لینا لازمی ہوتاہے، ہمیں اطلاع دئیے بغیر بورنگ کاکام شروع کیا گیا تھا، جس کی اطلاع ملنے پر ہمیں مجبوراً کام کو روکنا پڑا۔ لیکن خشک سالی کاموں کے متعلق ڈی سی نے منظوری دی ہے، تب ہم نے کام جاری رکھنے کے لئے موقع فراہم کیا۔